نواکشوط 26ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)اسلامی شریعت اور فقہی اصولوں کے مطابق حق مہر جنس ہی کی شکل میں ادا کیا جاتا ہے مگرافریقی ملک مورتیتانیہ میں ان دنوں ایک انوکھے حق مہر کا چرچا ہے جس کی باز گشت سات سمندر پار سے سنائی دے رہی ہے۔موریتانیہ کے ایک شہری نے اپنی بیٹی عقد نکاح کے عوض رقم، سونا ، چاندی، زمین یا جائیداد نہیں مانگی بلکہ دُلہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ملین درود شریف بھیجنے کا تقاضا کیا۔ دولہا نے یہ انوکھا حق مہر ادا کر دیا جب کہ دلہا کے والد کا اصرار ہے کہ حق مہر(ایک ملین دردو پاک پڑھنے کو)نکاح فارم میں درج کیا جائے۔خیال رہے کہ دلہا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہے مگر اعلیٰ تعلیم ہونے کے باوجود وہ بے روزگار ہیا۔ اس لیے اس کے ہونے والے سُسر نے اس سے جنس کی شکل میں حق مہر وصول کرنے کے بجائے دس لاکھ درود پاک پڑھنے کا تقاضا کیا۔ دس لاکھ درود پاک پڑھنے کے بدلے میں والد اپنی بیٹی کے حق مہر سے دستبردار ہوگیا۔یہ واقعہ موریتانیہ کے صدر مقام نواکشوط کی الترحیل کالونی میں حال ہی میں پیش آیا تھا۔ حق مہر میں درود پاک کی خبر نے سوشل میڈٰیا پر ایک طوفان برپا کردیا ہے۔ لوگ بڑھ چڑھ کر اس واقعے پر اپنے اپنے انداز اور خیالات کے مطابق تبصرے کررہیہیں۔ جہاں اس اقدام کی تحسین کی گئی ہے وہیں اس کی مخالفین کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ مخالفت کرنے والے حضرات اسے اسلام میں بدعت قرار دے رہے ہیں جب کہ سماجی سطح پر اس کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شادی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد گار ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بہت سے نوجوان مالی طور پرمستحکم نہ ہونے کے باعث بروقت شادی نہیں کرپاتے اور ان کی شادی کی عمر گذر جاتی ہے۔ سماجی کارکنوں نے نکاح اور مہر کے اس منفرد انداز فکر کو اپنانے کابھی مطالبہ کیا ہے۔موریتانیہ ہی میں نکاح کے لیے کوئی سابقہ لاحقہ نہیں کا اصول بھی اپنایا جاتا ہے جس کے تحت عورت نان نفقے کے حق سے دستبردار ہونے کے ساتھ طلاق کا اختیار اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان لڑائی کی صورت میں اگر بیوی ناراض ہو کر گھر سے چلی جائے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔